ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بی جے پی نے زیادہ تروہ سیٹیں گنوائی جہاں اس کے لیڈروں نے متنازعہ بیان دیا تھا

بی جے پی نے زیادہ تروہ سیٹیں گنوائی جہاں اس کے لیڈروں نے متنازعہ بیان دیا تھا

Wed, 12 Feb 2020 19:08:50    S.O. News Service

نئی دہلی،12/فروری(آئی این ایس انڈیا) دہلی اسمبلی انتخابات میں انتخابی مہم کے دوران بی جے پی لیڈروں نے جہاں جہاں عآپ کے مخالفین کو نشانہ بنا کر متنازعہ تبصرے کئے ان اسمبلی حلقوں میں پارٹی اپنا تاثر چھوڑنے میں ناکام رہی۔اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے جن 12 اسمبلی سیٹوں پر ریلیوں سے خطاب کیا ان میں صرف تین سیٹوں پر بی جے پی الیکشن جیت سکی۔

خیال رہے کہ بی جے پی ،  عآپ کے 62 سیٹوں کے مقابلے میں  صرف آٹھ سیٹوں پر انتخاب جیت پائی۔چار دن کے اس مصروف انتخابی مہم کے دوران یوگی نے پٹپڑ گنج، کراڑی، مہرولی، اتم نگر، دوارکا، تغلق آباد، وکاس پوری، روہنی، کراول شہر، جہانگیرپوری اور بدرپور میں بی جے پی امیدواروں کے حق میں ریلیوں سے خطاب کیا تھا۔ انہوں نے ہر ریلی میں شاہین باغ کے مظاہرین کو نشانے پر رکھا اور الزام لگایا کہ عآپ حکومت انہیں بریانی  کھلا رہی ہے۔الیکشن کمیشن نے اس کے لیے انہیں نوٹس بھی جاری کیا۔بدرپور، کروال نگر اور روہنی میں بی جے پی کے رام ویر سنگھ بدھوڑی، موہن سنگھ بشٹ اور وجیندر گپتا فاتح بن کر ابھرے۔

مغربی دہلی سے بی جے پی کے رہنما پرویش ورما نے جنک پوری میں ایک ریلی کے دوران متنازعہ بیان دیا تھا جہاں بی جے پی امیدوار آشیش سود نے راجیش رشی سے 14,917 ووٹوں سے ہار گئے۔ورما نے کہا تھاکہ کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کے ساتھ جو ہوا وہ دہلی میں بھی ہو سکتا ہے۔شاہین باغ میں لاکھوں لوگ جمع ہوئے ہیں وہ آپ کے گھروں میں گھس کر آپ کی بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ عصمت دری کر سکتے ہیں۔ عوام کو اب فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ورما کے اس بیان کے لئے الیکشن کمیشن نے ان پر چار دن کے لئے انتخابی مہم پر روک لگا دی تھی۔ سی اے اے کی مخالفت میں ہونے والا شاہین باغ مظاہرہ بی جے پی کے انتخابی مہم کا اہم مرکز بن گیا تھا۔

ورما کے چچا اور مڈکا سے پارٹی کے امیدوار آزاد سنگھ نے دھرم پال لاکڑا سے 19,158 ووٹوں سے ہار گئے۔رٹھالا میں جہاں مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے ’ملک کے غداروں“ والا بیان دیا تھا وہاں عآپ کے مہیندر گوئل نے بی جے پی کے منیش چودھری کو 13,817 ووٹوں سے شکست دی۔اس انتخاب کا مقابلہ ’ہندوستان بمقابلہ پاکستان میچ‘ سے کرنے سے متعلق اپنے متنازعہ ٹویٹ کی وجہ سے ماڈل ٹاؤن سے بی جے پی امیدوار کپل مشرا پر 48 گھنٹے تک انتخابی مہم پر پابندی عائد کی گئی تھی جہاں وہ عآپ کے اکھلیش ترپاٹھی سے ہار گئے۔


Share: